car in charging 121

حکومت کا الیکڑک کاریں اور گرین رکشہ سکیم چلانے کا اعلان

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس ہوا- جس کے بعد مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے میڈیا کو فیصلوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ملک میں آلودگی پر قابو پانے ایندھن کے درآمدی بل میں کمی لانے اور گرین اکانومی کو فروغ دینے کے سلسلے میں 2030 تک 30 فیصد گاڑیاں بجلی پر منتقل کر دی جائیں گی- اس حوالے سے الیکڑک وہیکل پالیسی کو آئیندہ 15 دنوں میں حتمی شکل دیکر کابینہ کے سامنے منظوری کے لیئے پیش کیا جائے گا-
وفاقی دارالحکومت میں 14 اگست 2019سے پلاسٹک بیگ کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ عوام کے گین رکشہ سکیم بھی متعارف کرائی جا رہی ہے- انہوں نے کہا اجلاس میں ماحولیاتی آلودگی کے مسائل اور ان پر قابو پانے کے حوالے سے کئے جانے والے مختلف اقدامات زئر غور آئے-
یہ خبر بھی پڑھے: نئی سیٹوں والی گاڑی پاکستان میں متعارف ، کتنی قیمت؟ آپ بھی جانئے
ملک امین اسلم نے کہا دنیا میں اس وقت الیکڑک کاروں کا رجحان فروغ پا رہا ہے- سات فیصد ممالک الیکڑک گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں- دنیا میں اس حوالے سے واضح تبدیلی آرہی ہے لیکن پاکستان اس عمل سے باہر تھا- انہوں نے کہا ہم نے فیصلہ کیا ہے اپنی ٹراسپورٹ کو تبدیل کرنے کا یہ درست وقت ہے ماحولیاتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے اس لیے ضروری ہے کہ الیکڑک گاڑیوں کے فروغ پر توجہ دی جائے- انہوں نے کہا الیکڑک گاڑیوں کے فروغ سے جہاں تیل کی درآمدات میں کمی آئے گی وہاں موحولیاتی نقصانات پر قابو پانے میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی جبکہ اس سے سامایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے- انہوں نے کہا کوشش ہوگی کہ ہم ملکی ضرورت کے لیے الیکڑک کاریں تیار کرنے کیساتھ ساتھ انہں برآمد کرنے کے قابل بھی ہو سکیں-
الیکڑک کار سے تیل کی طلب میں کمی ہو گی جس سے 2 ارب روپے کی بچت ہوگی – اس کیساتھ 70 فیصد تک آلودگی میں بھی کمی آئے گی- الیکڑک کار سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور گین اکانومی بنائی جا سکے گی- انہوں نے کہا ملک میں الیکڑک وہیکل چارجنگ سسٹم بھی قائم کیے جائے گے – گیس کی کمی کے باعث بند ہونے والے سی این جی سٹیشنز کو ہم چارجنگ سٹیشنز میں تبدیل کریں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں