128

مائیکروسافٹ کے شریک بانی پال ایلن کا خواب، دنیا کا سب سے بڑا جہاز خلا میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کے اخراجات کم ہونگے

دنیا کے سب سے بڑے ہوائی جہاز نے کامیاب پرواز مکمل کرلی اوراب یہ زمین پر آچکا ہے لیکن اس پروجیکٹ کیلیے فنڈنگ مائیکروسافٹ کے شریک بانی پال ایلن نے کی تھی – افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے پروجیکٹ کی کامیابی دیکھنے کیلئے زندہ نہیں – ان کا نتقال 2018 میں ہوا- پروجیکٹ کا نام زمین کے دوسرے مداراسٹراٹوسفئیر کو مدنظر رکھتے ہوئے ” اسٹراٹولانچ ” رکھا گیا تھا – یہ کمپنی 2011 میں قائم کی گئی تھی – پروجیکٹ پر گزشتہ دو سال سے کام جاری تھا اور گزشتہ روز اس نے مسلسل ڈھائی گھنٹے تک پروازکرکےتجربے کو کامیاب ثابت کیا – اس سے قبل اس پروجیکٹ پر صرف زمین پر ہی تجربات کیے جارہے تھے- اس جہاز کی تیاری کی بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ خلاء میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کیلئے راکٹ سے زیادہ قابل بھروسہ اور کار آمد طریقہ کار اختیار کیا جائے- اس طیارے کو زمین سے 10 کلومیٹر کی بلندی پر اڑایا جائے گا – اپنے پہلے تجربے کو شاندار قرار یاد رہے کہ برطانوی ارب پتی شخص رچرڈ برنسن کی کمپنی ورجن گیلکٹک بھی ایسا ہی طیارہ بنا چکی ہے جو فضا میں اڑے ہوئے سیٹلائٹس کو خلا میں لانچ کر سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں