Urdu Daily News PK 250

سکول کا کاروبار نہیں چل رہا تو کوئی اور بزنس کرلیں : چیف جسٹس آف پاکستان

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فیس میں غیر معمولی اصافے کے لیے اسکولز 3 سال انتظار کریں اور ان کا کاروبار نہیں چل رہا تو کوئی اور بزنس کرلیں- سپریم کورٹ میں سکول فیس میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی-
جیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ نجی سکولوں میں آئے روز فنکشن ہوتے ہیں- بچے ان فنکشنز پرکبھی کیک تو کھی دودھ لیکر جاتے ہیں- منگوائی گئی اشیا ٹیچرز گھر لے جاتی ہیں- آج تک بچوں کو وہ اشیا واپس نہیں ملیں جو ان سے منگوائی گئی ہوں- بچوں کے والدین نے روسٹر پر آکر کہا کہ نجی اسکولز میں ڈسپلن نہ ہونے کی وجہ سے بچے منشیات کے عادی ہو رہے ہیں اور ان اسکولز میں مغربی طرز زندگی کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے یہاں تک ککہ ہیلووین پارٹیز بھی ہوتی ہیں-
جیف جسٹس نے والدین سے کہا کہ آپ کو ماحول پسند نہیں تو بچوں کا اسکول بدل لیں- کسی نے زبردستی تو نجی اسکول میں پڑھانے کا نہیں کہا اسکولز کو سالانہ 5 فیصد سے زیادہ اضافہ چاہیے تو اپنا لائسنس سرنڈر کردے – ان اسکولوں میں جو ہوتا ہے سب معلوم ہے- یونیفارمز کتابوں پر الگ سے کمائی کی جاتی ہے- ان اسکولز کے نفع اربوں میں ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں