bank name 115

سوئس بنکوں میں پاکستانی رقوم 3 سالوں سے کم سطح پر آگئیں

سوئس بنکوں میں پاکستانی رقوم 3 سالوں سے کم سطح پر آگئیں

سوئس بنکوں میں پاکستانی شہریوں اور کاروباری اداروں کی جانب سے رکھی گئی رقوم 2018 میں 33 فیصد کم ہو کر 744 ملیں سوئس فرانک رہ گئیں۔ جمعرات کو شائع ہونے والے سوئس نیشنل بنک کے سالانہ اعدادوشمار کے مطابق یہ رقوم گزشتہ چار سال میں پہلی بار انڈین فنڈز سے بھی کم ہو گئیں ۔سوئس بنکوں میں رکھی گئیں پاکستانی رقوم 2017 میں 20 فیصد کم ہو کر 1115 ملیں ہوئیں جبکہ 2016 میں 6 فیصد کم ہو گئیں۔

فنڈز میں سالانہ کمی

قبل ازیں 2015 میں ان فنڈز میں 16 فیصد اضافہ ہوا تھا رپورٹ میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ گزشتہ چار سال پہلی بار پاکستان نے پڑوسی ملک بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جس کی کل رقوم 572 ملین سوئس فرانک ہیں- رپورٹ میں اس بارے میں کوئی رائے نہیں دی گئی کہ کیا یہ فنڈز غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے- یہ امر دلچسپی سے نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ ایس این بی نے ان اعدادوشمار میں وہ رقوم شامل نہیں کی ہیں جو سوئس بنکوں کے غیر ملکی کلائنٹس شیل کمپنیوں کے نام پر رکھتے ہیں-
یہ بھی پڑھیں: روبوٹ رپورٹر میدان میں آگیا، صوفیہ نامی روبوٹ نے10 منٹ کا وڈیو انٹرویو بھی دیا
اس کے نتیجے میں یہ امر یقینی ہوگا کہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے سوئزرلینڈ میں رکھے گئے بنک اکاوئنٹس کے بارے میں مالیاتی معلومات اس کے برعکس خود کار بنیاد پر ہر سال شیئر کی جائیں گی. یہ توقع کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک 2020 سے بنکنگ اعدادوشمار جمع کرنا شروع کریں گے اور 2021 سے سالانہ بنیاد پر ان کا تبادلہ کیا جائے گا-بھارتی میڈیا نے ایک روز قبل رپورٹ دی تھی کہ سوئٹزر لینڈ سے بنکنگ معلومات کا خود کار تبادلہ شروع ہو گیا ہے. سوئٹزر لینڈ نے ٹیکس امور میں باہمی انتظامی امداد پر کثیر ملکی کنونشن پر پہلی بار 2014 میں دستخط کیے تھے . سوئس پارلمینٹ نے ڈیل کی منظوری 2015 میں دی جس کی تصدیق 2016 میں کی گئی اور اسے یکم جنوری 2017 سے نافذ کیا گیا –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں