Urdu Daily News PK 185

رمضان کے پورے مہینے لوگوں سے منافع نہ لینے والا پشاور کا سکھ دکان دار

رمضان شروع ہوتے ہی اشیا خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور زخیرہ اندوزی بھی عروج پر ہوتی ہے لیکن خیبر ایجنسی کے علاقہ جمرود میں نرنجن سنگھ اپنی دکان پر اشیا کی قیمتیں حکومتی نرخ سے بھی کم رکھتا ہے-
اس نے 1991 میں کریانہ کی دکان کھول تھی آغاز میں دشواری یہ تھی کہ قبائلئ عوام اس کی دکان سے خریداری میں جھجک محسوس کرتے تھے لیکن نرنجن خود کم گو اور شرمیلا انسان ہے اور صرف اپنے گاہکوں اور علاقے کے بزرگوں سے ہی گفتگو کرتا ہے لیکن اسکا بیٹا گرمیت سنگھ ؛وگوں کے ہر وقت رابطے میں رہتا ہے- گرمیت سنگھ کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں بندہ رہتا ہے تو یہ اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ لوگوں کو فائدہ دے-
ہم بھی سال کے گیارہ مہینے خود کے لیئے کماتے ہیں تو کیا ہوا اگر رمضان کے مہینے میں علاقے کو فائدہ دے – نرنجن سنگھ جمعہ کے دن اپنی دکان بند رکھتا ہے- جمرود بازار میں پاک افغان شاہراہ پر وا قع خالصہ کریانہ سٹور میں نرنجن اور اس کے بیٹے پورے مہینے کسی بھی آئٹم میں اپنا منافع نہیں رکھتے اور یہاں تک دکان کا کرایہ بھی اپنی جیب سے دیتے ہیں. گرمیت نے رمضان کے شروع پوتے ہی دکان پر نرخ نامہ لگایا تودکان کی سیل بڑھ گئی کیونکہ ہر شے کی قیمت خریدہی فروخت تھی
بازار میں ایک ہزار کے لگ بھگ دکانیں ہیں لیکن گرمیت کہتا ہے ان کی سیل پورے علاقے میں سب سے زیادہ ہے. ان کے زیادہ تر گاہک آدھا کلو اور ایک کلو خریدنے والے غریب اور کم آمدن لوگ ہیں، بس اگر افطاری کے وقت غریب بندے کے منہ سے دعا نکلے اور قبول ہو جائے تو وہ ہمارے لیے کروڑوں روپے منافع سے بھی زیادہ ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں